چنئی، 5 /اکتوبر(آئی این ایس انڈیا/ ایس او نیوز) انا ڈی ایم کے نے آج کاویری آبی انتظام بورڈ کا قیام کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کرنے کے لیے مرکز اور کرناٹک حکومت پر نشانہ سادھا۔بورڈ کے قیام کے سلسلے میں عدالت عظمی میں این ڈی اے کی قیادت والی مرکزی حکومت کے رخ کے خلاف تمل ناڈو میں متعدد مقامات پر احتجاج ہوئے اور ایک کسان تنظیم نے یہاں اس مسئلے پر غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کردی۔ انا ڈی ایم کے کے ترجمان میں ایک مضمون میں ڈاکٹر نمادھو ایم جی آر نے کہا کہ عدالت عظمی کی ہدایت کے باوجود بورڈ کے قیام سے انکار کرنے سے واضح ہے کہ بی جے پی تمل ناڈو کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کر رہی ہے۔انا ڈی ایم کے نے الزام لگایاکہ یہ صاف ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سپریم کورٹ کی ہدایت پر غور نہ کرنے میں کرناٹک کی ضد کی حمایت کرے گی۔پارٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ جس طرح قومی پارٹیوں کی طرف سے حکمران مرکز اور کرناٹک حکومت سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کرکے اڑیل رویہ دکھا رہی رہی ہیں، اگر عام لوگوں نے بھی عدالت کے احکامات پر عمل نہ کرنا شروع کردیا تو کس طرح کی سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔انا ڈی ایم کے نے کہا کہ لوگوں کو پتہ ہے کہ بورڈ کا قیام کرنے کے معاملے پر مرکز اور کرناٹک حکومتوں کے رخ کا مقصد کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا ہے۔پارٹی نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس جیسی قومی پارٹیاں ووٹوں اور نشستوں کی خاطر ہندوستان کے اتحاد کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جو ملک سے محبت کرنے والوں کے لیے انتہائی تشویش کا موضوع ہے۔ادھر تمل ناڈو آل فارمرس فیڈریشنز کے کسانوں نے یہاں غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کرتے ہوئے مرکز سے بورڈ کی تشکیل کامطالبہ کیا ہے۔تنظیم کے صدر پی آر پانڈیان نے میڈیا سے کہاکہ یہ غیر معینہ بھوک ہڑتال ہے، ہم چاہتے ہیں کہ مرکز فوری طور پر بورڈ کی تشکیل کرے۔کاویری ڈیلٹا اضلاع تروورور اور تروچراپلی سمیت دیگر علاقوں کے15کسان بھوک ہڑتال پر ہیں۔سی پی آئی سے وابستہ ’آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘کے ارکان نے یہاں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔ڈی ایم کے کے خزانچی اور اپوزیشن لیڈر ایم کے اسٹالن نے کہا کہ وہ بورڈ کی تشکیل کو لے کر مرکز کے رخ کی مذمت کرتے ہوئے 7 /اکتوبر کو تنجاور میں بھوک ہڑتال کریں گے۔